صفحات

Friday, 13 November 2015

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو
عجب پاگل سی اک پرچھائیں آتی ہے نظر ہم کو
یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے
چمکتی دھوپ میں سونا پڑا ہے رات بھر ہم کو
ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا
کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو
ابھی تھوڑا سا شاید اور کچھ قصہ چکانا ہے
ابھی کچھ اور تھوڑی دور کرنا ہے سفر ہم کو
نہیں معلوم کس چکر میں یہ حالت بنا ڈالی
لیے جاتا ہے اک دریائے بے تابی کدھر ہم کو

شمیم حنفی

No comments:

Post a Comment