ايک مشکل سی بہر طور بنی ہوتی ہے
تجھ سے باز آئيں تو پھر خود سے ٹھنی ہوتی ہے
کچھ تو لے بيٹھتی ہے اپنی شکستہ پائی
اور کچھ راہ ميں چھاؤں بھی گھنی ہوتی ہے
آبلہ پائی بھی ہوتی ہے مقدر اپنا
ميرے سينے سے ذرا کان لگا کر ديکھو
سانس چلتی ہے کہ زنجير زنی ہوتی ہے
دودھ کی نہر نکالی ہے غموں سے ہم نے
ہم بتا سکتے ہيں کيا کوہ کنی ہوتی ہے
آنکھ تو کھلتی ہے کرنوں کی طلب ميں ليکن
زيبِ مژگاں کسی نيزے کی انی ہوتی ہے
دشتِ غربت پہ ہی موقوف نہيں ہے تابشؔ
اب تو گھر ميں بھی غريب الوطنی ہوتی ہے
عباس تابش
No comments:
Post a Comment