کون ہے جس سے بے پردہ، وہ شوخ شمائل ملتا ہے
ہم لاکھ اٹھاتے جاتے ہیں جو بھی پردہ حائل ملتا ہے
اس جہد و طلب سے ہی قائم بنیاد ہے بزمِ ہستی کی
وہ موج فنا ہو جاتی ہے جس موج کو ساحل ملتا ہے
گو یہ تو نہیں منزل پہ پہنچے ہوں، مگر یہ کیا کم ہے
مدت ہوئی اک سودائی نے جب سازِسلاسل چھیڑا تھا
اب جب بھی دیکھیے زنداں میں اک شورِ سلاسل ملتا ہے
اس موسمِ جذب و مستی کے آنے کی پھر دعائیں مانگو
جب چاکِ گریباں بڑھ بڑھ کے داماں کے مقابل ملتا ہے
زکی کیفی
ذکی کیفی
No comments:
Post a Comment