صفحات

Thursday, 17 December 2015

عشق زادوں کے لہو کا یہ اثر لگتا ہے

عشق زادوں کے لہو کا یہ اثر لگتا ہے
آج بھی دشت میں نیزے کو ثمر لگتا ہے
کوفہ و شام مراحل ہیں گزر جائیں گے
یہ مدینے سے مدینے کا سفر لگتا ہے
اس زمانے میں غنیمت ہے غنیمت ہے میاں
کوئی باہر سے بھی درویش اگر لگتا ہے
ہم کو دل نے نہیں، حالات نے نزدیک کیا
دھوپ میں دور سے ہر شخص شجر لگتا ہے
ایک مدت سے مِری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اِک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش

No comments:

Post a Comment