شبِ ہجر وہ دم بدم یاد آئے
بہت یاد آ کر بھی کم یاد آئے
اک ایسا بھی گزرا ہے فرقت میں عالم
نہ تم یاد آئے نہ ہم یاد آئے
کرم پر فدا دیدہ و دل تھے لیکن
تیری یاد جب آئی تنہا ہی آئی
خوشی یاد آئی نہ غم یاد آئے
زمانہ انہیں یاد کرتا ہے لیکن
انہیں یاد آئے تو ہم یاد آئے
عدو ان کو بہر کرم یاد آئے
ستم آزمانے کو ہم یاد آئے
ہمی وہ مجسم وفا ہیں کہ جن کو
ستم بھی بہ طرز کرم یاد آئے
شجیعؔ آج تنہا چمن میں گئے تھے
بہت ان کے نقشِ قدم یاد آئے
معظم جاہ شجیع
عدو ان کو بہر کرم یاد آئے
ReplyDeleteستم آزمانے کو ہم یاد آئے
ہمی وہ مجسم وفا ہیں کہ جن کو
ستم بھی بہ طرز کرم یاد آئے
بھائی بہت اچھا یہی اشعار نہیں تھے
Delete