میں احوالِ دل مر گیا کہتے کہتے
تھکے تم نہ 'بس سنا' کہتے کہتے
مجھے چپ لگی 'مدعا' کہتے کہتے
رکے ہیں وہ کیا جانے کیا کہتے کہتے
زباں گنگ ہے عشق میں گوش کر ہے
شبِ ہجر میں کیا ہجومِ بلا ہے
زباں تھک گئی 'مرحبا' کہتے کہتے
صد افسوس جاتی رہی وصل کی شب
ذرا ٹھہر اے بے وفا' کہتے کہتے'
چلے تم کہاں میں نے تو دم لیا ہے
فسانہ دلِ زار کا کہتے کہتے
برا ہو تِرا محرمِ راز تُو نے
کیا ان کو رسوا بڑا کہتے کہتے
ستم ہائے گردوں مفصل نہ پوچھو
کہ سر پھر گیا ماجرا کہتے کہتے
نہیں یا صنم مومنؔ اب کفر سے کچھ
کو خُو ہو گئی ہے صدا کہتے کہتے
مومن خان مومن
No comments:
Post a Comment