صفحات

Saturday, 12 December 2015

یاد ہیں سارے وہ عیش با فراغت کے مزے

یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے
دل ابھی بھولا نہیں آغازِ الفت کے مزے
وہ سراپا ناز تھا بے گانہ رسمِ وفا
اور مجھے حاصل تھے لطفِ بے نہایت کے مزے
حُسن سے اپنے وہ غافل تھا میں اپنے عشق سے
اب کہاں سے لاؤں وہ ناواقفیت کے مزے
میری جانب سے نگاہِ شوخ کی گستاخیاں
یار کی جانب سے آغازِ  شرارت کے مزے
یاد ہیں وہ حسن و الفت کی نرالی شوخیاں
التماسِ عذر و تمہیدِ شکایت کے مزے
صحتیں لاکھوں مِری بیمارئ غم پر نثار
جس میں اٹھے بارہا ان کی عیادت کے مزے

حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment