صفحات

Monday, 14 December 2015

بدنام میرے پیار کا افسانہ ہوا ہے

بدنام میرے پیار کا افسانہ ہوا ہے
دیوانے بھی کہتے ہیں کہ دیوانہ ہوا ہے
رشتہ تھا تبھی تو کسی بے درد نے توڑا
اپنا تھا تبھی تو کوئی بے گانہ ہوا ہے
موسم نے بنایا ہے نگاہوں کو شرابی
جس پھول کو دیکھوں وہی پیمانہ ہوا ہے
بادل کی طرح آ کے برس جائیے اِک دن
دل آپ کے ہوتے ہوئے ویرانہ ہوا ہے
بجتے ہیں خیالوں میں تیری یاد کے گھنگرو
کچھ دن سے میرا گھر بھی پری خانہ ہوا ہے

قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment