صفحات

Saturday, 12 December 2015

میں مبتلائے رنج وطن ہوں وطن سے دور

میں مبتلائے رنجِ وطن ہوں وطن سے دور
بلبل کے دل میں یادِ چمن ہے چمن سے دور
آشفتہ کس قدر ہے، پریشان کس قدر
دل ہے جو اس کی زلفِ شکن در شکن سے دور
ہے ہجر میں وصال، زہے خوبئ خیال
بیٹھے ہیں انجمن میں تِری، انجمن سے دور
سب یاد ہیں فریبِ محبت کے واقعات
اب دل رہے گا اس نگہِ سحر فن سے دور
فرقت میں ان کی بوئے گل اے بادِ نو بہار
آئے بھی تو رہے مِرے بیت الحزن سے دور
رعنائیِ خیال کو ٹھہرا دیا گناہ
زاہد بھی کس قدر ہے مذاقِ سخن سے دور
غالب کی طرح رہ گئی حسرتؔ مِری بھی شرم
مارا دیارِغیر میں، مجھ کو وطن سے دور

حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment