دو جواں دلوں کا غم دوریاں سمجھتی ہیں
کون یاد کرتا ہے، ہچکیاں سمجھتی ہیں
تم تو خود ہی قاتل ہو، تم یہ بات کیا جانو
کیوں ہوا میں دیوانہ، بیڑیاں سمجھتی ہیں
بام سے اترتی ہے جب حسین دوشیزہ
یوں تو سیرِ گلشن کو کتنے لوگ آتے ہیں
پھول کون توڑے گا، ڈالیاں سمجھتی ہیں
جس نے کر لیا دل میں پہلی بار گھر دانشؔ
اس کو میری آنکھوں کی پتلیاں سمجھتی ہیں
احسان دانش
No comments:
Post a Comment