صفحات

Sunday, 13 December 2015

دو جواں دلوں کا غم دوریاں سمجھتی ہیں

دو جواں دلوں کا غم دوریاں سمجھتی ہیں
کون یاد کرتا ہے، ہچکیاں سمجھتی ہیں
تم تو خود ہی قاتل ہو، تم یہ بات کیا جانو
کیوں ہوا میں دیوانہ، بیڑیاں سمجھتی ہیں
بام سے اترتی ہے جب حسین دوشیزہ
جسم کی نزاکت کو سیڑھیاں سمجھتی ہیں
یوں تو سیرِ گلشن کو کتنے لوگ آتے ہیں
پھول کون توڑے گا، ڈالیاں سمجھتی ہیں
جس نے کر لیا دل میں پہلی بار گھر دانشؔ
اس کو میری آنکھوں کی پتلیاں سمجھتی ہیں

احسان دانش

No comments:

Post a Comment