صفحات

Saturday, 2 January 2016

مرے کوچے میں وہ کن شوخیوں سے جا بجا ٹھہرے

مِرے کوچے میں وہ کن شوخیوں سے جا بجا ٹھہرے
بڑھے بڑھ کر تھمے دم بھر چلے چل کر ذرا ٹھہرے
تغافل کی نہ ٹھہرے آج قاتل فیصلہ ٹھہرے
نہیں تلوار تو فقرہ کوئی چلتا ہوا ٹھہرے
تسلی دل کو جو دیتے ہیں کیسے لوگ ہیں یا رب
جگر ہی جب نہ ٹھہرے تو جگر پر ہاتھ کیا ٹھہرے
مسیحؑ و خضرؑ گو یکتا ہیں دونوں ہم تو جب جانیں
جو دل گرتا ہوا سنبھلے، جو دم جاتا ہوا ٹھہرے
اڑا جاتا ہے مطلب کیا لکھوں میں خط میں اے قاصد
پریشانی ٹھہرنے دے تو دل میں مدعا ٹھہرے
بہارِ بے خزاں دیکھی ہے کب تُو نے دکھا دیں ہم
جو اس کی طبع میں اے باغباں رنگِ وفا ٹھہرے
گِلہ جور و ستم کا حشر میں، پھر عشق کا دعویٰ
مِرا ذمہ تِرے آگے جو کوئی بے خطا ٹھہرے
مِری افتادگی نے آسمان پر مجھ کو پہنچایا
زمین پر وہ نہ ٹھہرے جو تمہاری خاکِ پا ٹھہرے
وہی انسان پورا ہے اس کے ہم تو قائل ہیں
بھلوں میں جو بھلا ٹھہرے بروں میں جو برا ٹھہرے
مزا چکھا نہیں دنیا کا زاہد تُو نے دنیا میں
کبھی تو بادہ نوشی کی بھی اے مردِ خدا ٹھہرے
صبا تجھ کو تو غنچے چٹکیوں ہی میں اڑا دیتے
جو نکہت خود ہو آوارہ تو ٹھہرائے سے کیا ٹھہرے
ابھی سامان آہ و نالہ و فریاد پیچھے ہے
قدم آگے نہ رکھے عرشِ اعلیٰ پر دعا ٹھہرے
تِری آنکھیں ہیں اس نےتاک لیں اپنے ٹھہرنے کو
ٹھہرتی ہے اگر تو چشمِ دشمن میں حیا ٹھہرے
متاعِ شوق بھی ہے مایۂ الفت بھی رکھتے ہیں
اگر لیجیے تو کچھ سودا ہمارا آپ کا ٹھہرے
شبِ وعدہ جب ان سے شکوۂ تاخیر کرتا ہوں
تو کہتے ہیں کہ ہم انسان کیا ٹھہرے ہوا ٹھہرے
رہا روزِ جزا کے بعد کا غم مجھ کو حشر میں
کہ دن کو تو یہ ٹھہرے رات کو کیا جانے کیا ٹھہرے
قسم ہے اس کی یہ مرضی نہیں اے داورِ محشر
کہ مجرم داغؔ ٹھہرے اور دشمن بے خطا ٹھہرے

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment