صفحات

Saturday, 2 January 2016

وقت بدلے گا تو حالات بدل جائیں گے

وقت بدلے گا تو حالات بدل جائیں گے
آپ کے سارے خیالات بدل جائیں گے
دوست دشمن کے حوالے بھی نئے طے ہوں گے
آپ کے سارے سوالات بدل جائیں گے
وقت لکھے گا زمانے کے ورق پر نئی تحریر
با کمالوں کے کمالات بدل جائیں گے
ہجر میں لوٹيں گے عشاق مزے وصلوں کے
سب اساساتِ جمالات بدل جائیں گے
آسماں پر نظر آتی ہیں پریشاں تصویریں
جتنے اترے ہیں رسالات بدل جائيں گے

خواجہ اشرف
کے اشرف

No comments:

Post a Comment