وقت بدلے گا تو حالات بدل جائیں گے
آپ کے سارے خیالات بدل جائیں گے
دوست دشمن کے حوالے بھی نئے طے ہوں گے
آپ کے سارے سوالات بدل جائیں گے
وقت لکھے گا زمانے کے ورق پر نئی تحریر
ہجر میں لوٹيں گے عشاق مزے وصلوں کے
سب اساساتِ جمالات بدل جائیں گے
آسماں پر نظر آتی ہیں پریشاں تصویریں
جتنے اترے ہیں رسالات بدل جائيں گے
خواجہ اشرف
کے اشرف
No comments:
Post a Comment