ستم ہی کرنا، جفا ہی کرنا، نگاہِ الفت کبھی نہ کرنا
نہیں قسم ہے ہمارے سر کی، ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا، تو چار آنسو بہا کے جانا
ذرا رہے پاسِ آبرو بھی، کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
لیے تو چلتے ہیں حضرتِ دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکن
ہُوا ہے گر شوق آئینہ سے تو رخ رہے راستی کی جانب
مثالِ عارض صفائی رکھنا، بہ رنگِ کاکل کجی نہ کرنا
وہ اک ہمارا طریقِ الفت، کہ دشمنوں سے بھی مل کے چلنا
وہ ایک شیوہ تیرا ستم گر، کہ دوست سے دوستی نہ کرنا
ہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماں
یہ حضرتِ خصرؑ کو جتا دو، کسی کی تم رہبری نہ کرنا
بری ہے اے داغؔ رہِ الفت ، خدا نہ لے جائے ایسے رستے
جو اپنی تم خیر چاہتے ہو، تو بھول کر دل لگی نہ کرنا
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment