صفحات

Saturday, 2 January 2016

ہم حد ماہ و سال سے آگے نہیں گئے

ہم حدِ ماہ و سال سے آگے نہیں گئے
خوابوں میں بھی خیال سے آگے نہیں گئے
کچھ ہم بھی التفات میں ایسے سخی نہ تھے
کچھ وہ بھی عرضِ حال سے آگے نہیں گئے
تھیں تو ضرور منزلیں اس سے پرے بھی کچھ
لیکن تِرے خیال سے آگے نہیں گئے
ہر حد سے ماورأ تھی سخاوت میں اس کی ذات
ہم آخری سوال سے آگے نہیں گئے
سوچا تھا میرے دکھ کا مداوا کریں گے کچھ
وہ پُرسشِ ملال سے آگے نہیں گئے
کچھ خود سری کے فن میں نہ تھے ہم بھی کم مگر
اس صاحبِ کمال سے آگے نہیں گئے
کیا ظلم ہے کہ عشق کا دعویٰ انہیں بھی ہے
جو حدِ اعتدال سے آگے نہیں گئے
لاہور پیچھے رہ گیا ہم با وفا مگر
اس شہرِ بے مثال سے آگے نہیں گئے

شبنم شکیل

No comments:

Post a Comment