صفحات

Saturday, 2 January 2016

جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا

جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
اپنے لیے فریب سا ایجاد کر لیا
کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا
جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا
خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے
ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا
تھا عشق کا حوالہ نیا، ہم نے اس لیے
مضمونِ دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا
یوں بھی پناہِ سایہ کڑی دھوپ میں ملی
آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا
آیا نیا شعور نئی الجھنوں کے ساتھ
سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا
بس کہ امامِ عصر کا فرمان تھا یہی
منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment