صفحات

Sunday, 3 January 2016

اور تو خیر کیا رہ گیا

اور تو خیر کیا رہ گیا
ہاں مگر اک خلا رہ گیا
غم سبھی دل سے رخصت ہوئے
درد بے انتہا رہ گیا
زخم سب مندمل ہوگئے
اک دریچہ کھلا رہ گیا
رنگ جانے کہاں اڑ گئے
صرف اک داغ سا رہ گیا
آرزوؤں کا مرکز تھا دل
حسرتوں سے گھِرا رہ گیا
زندگی سے تعلق مِرا
ٹوٹ کر بھی جڑا رہ گیا
کس کو چھوڑا خزاں نے مگر
زخم دل کا ہرا رہ گیا
کام اجملؔ بہت تھے ہمیں
ہاتھ دل پر دھرا رہ گیا

اجمل سراج

No comments:

Post a Comment