اور تو خیر کیا رہ گیا
ہاں مگر اک خلا رہ گیا
غم سبھی دل سے رخصت ہوئے
درد بے انتہا رہ گیا
زخم سب مندمل ہوگئے
رنگ جانے کہاں اڑ گئے
صرف اک داغ سا رہ گیا
آرزوؤں کا مرکز تھا دل
حسرتوں سے گھِرا رہ گیا
زندگی سے تعلق مِرا
ٹوٹ کر بھی جڑا رہ گیا
کس کو چھوڑا خزاں نے مگر
زخم دل کا ہرا رہ گیا
کام اجملؔ بہت تھے ہمیں
ہاتھ دل پر دھرا رہ گیا
اجمل سراج
No comments:
Post a Comment