برہم سنبھال کر چلیے
راستہ دیکھ بھال کر چلیے
موسمِ گل ہے، اپنی بانہوں کو
میری بانہوں میں ڈال کر چلیے
مے کدے میں نہ بیٹھیے تاہم
کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہو گا
حرج کیا ہے، سوال کر چلیے
ہے اگر قتلِ عام کی نیت
جسم کی چھب نکال کر چلیے
یا دوپٹہ نہ لیجیے سر پر
یا دوپٹہ سنبھال کر چلیے
یار دوزخ میں ہیں مقیم عدمؔ
خُلد سے انتقال کر چلیے
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment