صفحات

Saturday, 2 January 2016

برہم سنبھال کر چلیے

برہم سنبھال کر چلیے
راستہ دیکھ بھال کر چلیے
موسمِ گل ہے، اپنی بانہوں کو
میری بانہوں میں ڈال کر چلیے
مے کدے میں نہ بیٹھیے تاہم
کچھ طبیعت بحال کر چلیے
کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہو گا
حرج کیا ہے، سوال کر چلیے
ہے اگر قتلِ عام کی نیت
جسم کی چھب نکال کر چلیے
یا دوپٹہ نہ لیجیے سر پر
یا دوپٹہ سنبھال کر چلیے
یار دوزخ میں ہیں مقیم عدمؔ
خُلد سے انتقال کر چلیے

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment