صفحات

Friday, 8 January 2016

کوئی آیا ہی نہیں اور پہ الزام کہاں

کوئی آیا ہی نہیں اور پہ الزام کہاں
بس تمہی تم تھے، گیا پھر دلِ ناکام کہاں
ہم جس آرام کو سمجھے تھے وہ آرام کہاں
کھینچ لائی ہے ہمیں گردشِ ایام کہاں
وہ تماشے سے بھی بیزار نظر آتے ہیں
پھر یہ دیوانگی آئے گی مِرے کام کہاں
تم تو ہو میرے دل و جان کے مالک مشہور
تم پہ آئے گا مِرے خون کا الزام کہاں
پی بھی لے اوک سے اے شیخ جو پینی ہے تجھے
یہ بلا نوشوں کی محفل ہے یہاں جام کہاں
ہم تو مے خانے میں غم اپنا غلط کر لیں گے
تو بتا جائے گی اے گردشِ ایام کہاں
شیخ نے مانگا ہے مجھ سے مِری توبہ کا ثبوت
لا کے ٹوٹے ہوئے رکھے ہیں مِرے جام کہاں
تم بھی موسیٰ مع امت کے چلے آئے ہو
جلوۂ خاص کہاں اور نگہِ عام کہاں
راستہ دیکھنا سورج تو قمرؔ چھپ جائے
شام کے آنے کا وعدہ ہے ابھی شام کہاں

استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment