صفحات

Friday, 8 January 2016

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
میں کیا کر رہا ہوں، وہ کیا کر رہے ہیں
ستم ڈھائے جاؤ، سلامت رہو تم
دعا کرنے والے دعا کر رہے ہیں
تِری رحمتوں کا سہارا ہے ہم کو
تِرے آسرے پر خطا کر رہے ہیں
ہیں دنیا میں جتنے بھی مجبورِ الفت
تمہیں سے تمہارا گِلہ کررہے ہیں
محبت خطا ہے، سمجھتے ہیں ہم بھی
خطا بخش دے، ہم خطا کر رہے ہیں
ہمیں اپنے مٹنے کا کچھ غم نہیں ہے
تمہارے لیے ہم دعا کر رہے ہیں
تِرے آستانے کے سجدے ہیں باقی
ابھی سجدۂ نقشِ پا کر رہے ہیں
وفادار ہم سے زمانے میں کم ہیں
وفا ہم نے کی ہے، وفا کر رہے ہیں
بتوں کے تصور میں محفل سجا کر
ہم اس طرح یادِ خدا کر رہے ہیں
کبھی ہاتھ رکھتے ہیں سینہ پہ میرے
کبھی تیر دل سے جدا کر رہے ہیں
نمازِ محبت کو بہزادِؔ مضطر
قضا کر چکے تھے، ادا کر رہے ہیں​

بہزاد لکھنوی

No comments:

Post a Comment