صفحات

Saturday, 2 January 2016

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا
ان کی آنکھوں میں کیسے چھلکنے لگا
میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا
ایسے بچھڑے سبھی راہ کے موڑ پر
آخری ہم سفر راستہ رہ گیا
سوچ کر آؤ کوئے تمنا ہے یہ
جانِ من جو یہاں رہ گیا رہ گیا

عزیز قیسی

No comments:

Post a Comment