صفحات

Friday, 1 January 2016

قلق اور دل کا سوا ہو گیا

قلق اور دل کا سوا ہو گیا
دلاسہ تمہارا بلا ہو گیا
دکھانا پڑے گا ہمیں زخمِ دل
اگر تِیر ان کا خطا ہو گیا
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا
وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
سماں کل کا رہ رہ کے آتا ہے یاد
ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہو گیا
سمجھتے تھے جس غم کو ہم جاں گزا
وہ غم رفتہ رفتہ غذا ہو گیا
نہ دے میری امید مجھ کو جواب
رہے وہ خفا گر خفا ہو گیا
ٹپکتا ہے اشعارِ حالیؔ سے حال
کہیں سادہ دل مبتلا ہو گیا

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment