حق وفا کا جو ہم جتانے لگے
آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
تھا یہاں دل میں طعنِ وصلِ عدو
عذر ان کی زباں پہ آنے لگے
ہم کو جینا پڑے گا فرقت میں
ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے
اب وہ باتیں بہت جتانے لگے
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیم
ہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
جی میں ہے یوں رضائے پیرِ مغاں
قافلے پھر حرم کو جانے لگے
سرِ باطن کو فاش کر یا رب
اہلِ ظاہر بہت ستانے لگے
وقتِ رخصت تھا سخت حالیؔ پر
ہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment