صفحات

Tuesday, 5 April 2016

کھول کر بات کا بھرم دونوں

کھول کر بات کا بھرم دونوں 
کم سخن ہو گئے ہیں ہم دونوں
ہو گئے اب جدا تو کیا کہیے
تھے خطا کار بیش و کم دونوں
جب ملیں گے تو بھول جائیں گے
جو ابھی سوچتے ہیں ہم دونوں
دفعتاً سامنا ہوا اپنا
جی اٹھے جیسے ایک دَم دونوں
ہجرت و ہجر سے بچائے خدا
مجھ کو لاحق ہیں آج غم دونوں
اب یہی ایک راہ بچتی ہے 
بس یہیں روک لیں قدم دونوں
مجھ پہ گزرا ہے وقتِ ہجر و وصال
دل نے دیکھے ہیں زیر و بم دونوں
جب نمٹ جائیں گے یہ ہنگامے
پھر سے ہو جائیں گے بہم دونوں

سجاد بلوچ

No comments:

Post a Comment