حدِ شماریات سے آگے کی سوچنا
اب قلزم و فرات سے آگے کی سوچنا
میں بھی نکل گیا ہوں عذاب و ثواب سے
تم بھی رہِ نجات سے آگے کی سوچنا
مانا، محبتوں میں بھی لازم ہے احتیاط
سانسوں سے ماورأ بھی تو ہے ایک زندگی
اس عارضی حیات سے آگے کی سوچنا
ترتیبِ کائنات ابھی کل کی بات ہے
ترتیبِ کائنات سے آگے کی سوچنا
عبدالرحمان واصف
No comments:
Post a Comment