صفحات

Monday, 11 April 2016

جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیا

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا
شاہی تو مل گئی، دلِ شاہانہ چھٹ گیا
کوئی تو غمگسار تھا، کوئی تو دوست تھا
اب کس کے پاس جائیں کہ ویرانہ چھٹ گیا
دنیا تمام چھٹ گئی پیمانے کے لیے
وہ میکدے میں آئے تو پیمانہ چھٹ گیا
کیا تیز پا تھے دن کی تمازت کے قافلے
ہاتوں سے رشتۂ شبِ افسانہ چھٹ گیا
اک دن حساب ہو گا کہ دنیا کے واسطے
کن صاحبوں کا مسلکِ رندانہ چھٹ گیا

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment