صفحات

Tuesday, 12 April 2016

کوئی جیے یا کوئی مرے

کوئی جیے یا کوئی مرے
تم اپنی سی کر گزرے
دل میں تیری یادوں نے
کیسے کیسے رنگ بھرے
اب وہ اُمنگیں ہیں نہ وہ دل
کون اب تجھ کو یاد کرے
پیار کی رِیت نِرالی ہے
کوئی کرے اور کوئی بھرے
پھول تو کیا کانٹے بھی نہیں
کیسے اُجڑے باغ ہَرے
بادل گَرجا پَوَن چلی
پھُلواری میں پھُول ڈرے
پَت جھڑ آنے والی ہے
رس پی کر اُڑ جا بھنورے

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment