صفحات

Monday, 11 April 2016

بس ایک پردہ اغماض تھا کفن اس کا

بس ایک پردۂ اغماض تھا کفن اس کا
لہو لہان پڑا تھا برہنہ تن اس کا
نہ یہ زمین ہوئی اسکے خون سے گلنار
نہ آسماں سے اتارا گیا کفن اس کا
رمِ نجات بس اک جنبش ہوا میں تھا
کہ نقصِ آب کو ٹھہرا دیا بدن اس کا
لہکتے شعلوں میں گو راکھ ہو چکے اوراق
ہوا چلی تو دمکنے لگا سخن اس کا
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں
چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا

زیب غوری

No comments:

Post a Comment