بس ایک پردۂ اغماض تھا کفن اس کا
لہو لہان پڑا تھا برہنہ تن اس کا
نہ یہ زمین ہوئی اسکے خون سے گلنار
نہ آسماں سے اتارا گیا کفن اس کا
رمِ نجات بس اک جنبش ہوا میں تھا
لہکتے شعلوں میں گو راکھ ہو چکے اوراق
ہوا چلی تو دمکنے لگا سخن اس کا
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں
چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا
زیب غوری
No comments:
Post a Comment