صفحات

Friday, 1 April 2016

جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں

جفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں
وفائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں
بہاریں دیر تک رہتی ہیں کم آباد قریوں میں
خزائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں
صدا ہنسنے کی ہو افسوس کی یا آہ بھرنے کی
صدائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں
اندھیرا جب گھنا ہو تو چراغِ راہِ ویراں کی
شعاعیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں
منیرؔ آباد شہروں کے مکینوں کی ہوا لے کر
ہوائیں دور تک جاتی ہیں کم آباد شہروں میں

منیر نیازی

No comments:

Post a Comment