صفحات

Monday, 4 April 2016

شہر میں ہر سمت قتل عام ہے

شہر میں ہر سمت قتلِ عام ہے 
خون میں ڈوبی سحر اور شام ہے 
جا بجا انسانیت کی دھجیاں 
ہر جگہ کُہرام ہی کُہرام ہے 
آنکھ کی محراب، اشکوں کے چراغ 
اب یہی منظر ہمارے نام ہے 
چھوڑئیے رنگِ چمن کی داستاں
اب قفس میں ہی مجھے آرام ہے 
حسن ہے بے عیب راہیؔ سر بہ سر 
عشق تو الزام ہی الزام ہے​

‏سوہن راہی

No comments:

Post a Comment