کھنڈر کے ذوقِ نمائش پہ دنگ ہوتا ہوا
میں دیکھتا رہا ملبے پہ رنگ ہوتا ہوا
قدیم پیڑ ہوں اور منجمد چٹان میں ہوں
عجیب دور سے گزرا ہوں سنگ ہوتا ہوا
کسی کنارۂ روشن کے انتظار میں لوگ
شکست آئینۂ جاں پہ مہر کرتی ہوئی
وہ ایک عکس بتدریج زنگ ہوتا ہوا
فرازِ غم سے کئی راستے اترتے ہوئے
دل اپنے دشت کی وسعت سے تنگ ہوتا ہوا
کبھی کبھی مِرے دل میں دھمال پڑتی ہوئی
کبھی کبھی کوئی مجھ میں ملنگ ہوتا ہوا
سعود عثمانی
No comments:
Post a Comment