کیوں شناسائی کا گہرا زخم بھرتا ہی نہیں
دل تو کب کا مر گیا، ارمان مرتا ہی نہیں؟
آس کے سارے ستارے جھلملا کر بجھ گئے
اے شبِ فرقت! مِرا سورج ابھرتا ہی نہیں
خواہشوں کی سوگواری زیست کی بے چہرگی
حبس ہے چاروں طرف چھایا فضائے ذہن میں
حجلۂ جاں سے کوئی جھونکا گزرتا ہی نہیں
عشق کی مے پی کے دل مجذوب ہوتا جائے ہے
نشہ سنتے ہیں کہ چڑھ کر یہ اترتا ہی نہیں
تسنیم عابدی
No comments:
Post a Comment