صفحات

Friday, 1 April 2016

کسی خدا کا نہ بھگوان کا پجاری ہوں

کسی خدا کا نہ بھگوان کا پجاری ہوں
میں خود پرست ہوں انسان کا پجاری ہوں
نہ روک اپنی عبادت سے اپنے گھر میں مجھے
میں میزبان ہوں، مہمان  کا پجاری ہوں
یہ اور بات کہ ممکن نہیں تمام امکان
یہ اور بات کہ امکان  کا پجاری ہوں
مِرا جنون تعارف کرا رہا ہے مِرا
میں ابنِ عقل ہوں، بُرہان  کا پجاری ہوں
دھڑکتے دل مجھے دل سے پسند ہیں لیکن
میں سوچتے ہوئے اذہان  کا پجاری ہوں
تِرے سوا میں کہیں بھی نہ جھک سکوں کا ترابؔ
بھلے کہیں کہ میں شیطان  کا پجاری ہوں

عطا تراب

No comments:

Post a Comment