پس مرگ میرے مزار پر جو چراغ کسی نے جلا دیا
اسے آہ دامن باد نے، سرِ شام ہی سے بجھا دیا
مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اس سے کہنا کہ اے پری
وہ جو تیرا عاشقِ زار تھا، تہِ خاک اس کو دبا دیا
دمِ غسل سے مِرے پیشتر، اسے ہمدموں نے یہ سوچ کر
مِری آنکھ جھپکی تھی اک پل، مِرے دل نے چاہا کہ اٹھ کے چل
دل بے قرار نے او میاں! وہیں چٹکی لے کے جگا دیا
ذرا ان کی شوخی تو دیکھیے لیے زلفِ زخم شدہ ہاتھ میں
میرے پیچھے آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کر ڈرا دیا
میں نے دل دیا، میں نے جاں دی، مگر آہ! تُو نے نہ قدر کی
کسی بات کو جو کہا کبھی،۔ اسے چٹکیوں میں اڑا دیا
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment