صفحات

Tuesday, 5 April 2016

پس مرگ میرے مزار پر جو چراغ کسی نے جلا دیا

پس مرگ میرے مزار پر جو چراغ کسی نے جلا دیا
اسے آہ دامن باد نے، سرِ شام ہی سے بجھا دیا
مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اس سے کہنا کہ اے پری
وہ جو تیرا عاشقِ زار تھا، تہِ خاک اس کو دبا دیا
دمِ غسل سے مِرے پیشتر، اسے ہمدموں نے یہ سوچ کر
کہیں جائے اس کا نہ دل دہل، مِری لاش پر سے ہٹا دیا
مِری آنکھ جھپکی تھی اک پل، مِرے دل نے چاہا کہ اٹھ کے چل
دل بے قرار نے او میاں! وہیں چٹکی لے کے جگا دیا
ذرا ان کی شوخی تو دیکھیے لیے زلفِ زخم شدہ ہاتھ میں
میرے پیچھے آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کر ڈرا دیا
میں نے دل دیا، میں نے جاں دی، مگر آہ! تُو نے نہ قدر کی
کسی بات کو جو کہا کبھی،۔ اسے چٹکیوں میں اڑا دیا

 بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment