صفحات

Sunday, 10 April 2016

میری پلکوں کو مت دیکھو

دیدنی

میری پلکوں کو مت دیکھو
ان کا اٹھنا، ان کا جھپکنا، جسم کا نامحسوس عمل ہے
میری آنکھوں کو مت دیکھو
ان کی اوٹ میں شامِ غریباں، ان کی آڑ میں دشتِ ازل ہے

میرے چہرے کو مت دیکھو
اس میں کوئی وعدۂ فردا، اس میں کوئی آج نہ کل ہے
اب اس دریا تک مت آؤ، جس کی لہریں ٹوٹ چکی ہیں
اس سینے سے لو نہ لگاؤ، جس کی نبضیں چھوٹ چکی ہیں
اب میرے قاتل کو چاہو
میرا قاتل مرہم مرہم، دریا دریا، ساحل ساحل
قاضئ شہر کا ماتھا چومو
جس کے قلم میں زہرِ ہلاہل، جس کے سخن میں لحنِ سلاسل
اب اس رقص کی دھن پر ناچو
جس کی گَت پر لُٹ گیا قاضی، جس کے لَے پر بِک گیا قاضی

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment