صفحات

Wednesday, 6 April 2016

میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے

میری فغاں کو بابِ اثر کی تلاش ہے
اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے
شبنم! تیرے ان آئینہ خانوں کی خیر ہو
میرے چمن کو برق و شرر کی تلاش ہے 
بیٹھا ہوا ہوں غیر کے در پر شکستہ پا
کس منہ سے میں کہوں تِرے در کی تلاش ہے
جس کی ضیا ہو دسترسِ شامِ غم سے دور
دنیا کو ایک ایسی سحر کی تلاش ہے
باقیؔ ہے ٹوٹنے کو اب امید کا طلسم
اک آخری فریبِ نظر کی تلاش ہے

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment