صفحات

Monday, 11 April 2016

ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا

ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا
جس گھر میں بھی گئے کوئی ٹھہرا ہوا ملا
وہ جس کی جستجو ہمیں لائی یہاں تلک
دریا کی تیز دھار پہ بہتا ہوا ملا
اک قافلہ گیا ہے دفینے تلاشنے
صحرا جرس کی گونج سے سہما ہوا ملا
غم کو سمجھنے والے ہی ناپید ہو گئے
شکوہ ہر ایک شخص یہ کرتا ہوا ملا

​آشفتہ چنگیزی

No comments:

Post a Comment