ہر شخص داستانوں میں بکھرا ہوا ملا
جس گھر میں بھی گئے کوئی ٹھہرا ہوا ملا
وہ جس کی جستجو ہمیں لائی یہاں تلک
دریا کی تیز دھار پہ بہتا ہوا ملا
اک قافلہ گیا ہے دفینے تلاشنے
غم کو سمجھنے والے ہی ناپید ہو گئے
شکوہ ہر ایک شخص یہ کرتا ہوا ملا
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment