وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا
اک جھلک دیکھی تھی اس روئے دل آرا کی کبھی
پھر نہ آنکھوں سے وہ ایسا دلربا منظر گیا
شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
تھی وطن میں منتظر جس کی کوئی چشمِ حسیں
وہ مسافر جانے کس صحرا میں جل کر مر گیا
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو لہو سے بھر گیا
منیر نیازی
No comments:
Post a Comment