صفحات

Tuesday, 4 October 2016

میں ہوں ایسے بکھرا سا

میں ہوں ایسے بکھرا سا
جیسے خواب ادھورا سا
دور دور تک پھیلا ہے 
یادوں کا اک صحرا سا
بے شک آپ نہیں آتے 
کر دیتے کوئی وعدہ سا
غم سے آنکھیں بوجھل ہیں
دل بھی ہے کچھ بکھرا سا
میں اس کی نظروں میں ہوں
کاغذ کا ایک ٹکڑا سا
عقل وجنوں میں رہتا ہے 
کوئی نہ کوئی جھگڑا سا
ان سے دل کی بات کہی
بوجھ ہوا کچھ ہلکا سا
اڑی اڑی سی رنگت ہے 
ہر کوئی ہے سہما سا
کوئی بات نہیں ڈھب کی 
دنیا ایک تماشا سا
انقلاب کب آئے گا
سرمیں ہے یہ سودا سا
اس کو حق ہے جو بھی کرے 
وہ ہے میرا اپنا سا
میرا یہی اثاثہ ہے 
اک دل وہ بھی ٹوٹا سا
آپ تو چپ سے رہتے ہیں 
میں ہوتا ہوں رسوا سا
عرشؔ نگاہوں میں اکثر 
لہرائے اک سایا سا

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment