صفحات

Tuesday, 11 October 2016

دیا جلایا تن سے دھول اتاری ہے

دیا جلایا، تن سے دھول اتاری ہے
یہ سب تم سے ملنے کی تیاری ہے
گزر رہے ہیں لہو کی دھار سے رات اور دن
رات اور دن کے پیچھے اپنی باری ہے 
ہم دونوں کے خواب کہاں مل سکتے ہیں
تم نے رات اور میں نے عمر گزاری ہے
سر پر جو گٹھڑی ہے اس کا بوجھ نہیں
گٹھڑی میں جو سپنا ہے وہ بھاری ہے
رنگوں، خوشبوؤں میں بھیگتا جاتا ہوں
کپڑے ہیں یا پھولوں کی الماری ہے
میرے اندر کوئی پرندہ ہے قیصرؔ
لہو میں تر ہے اور اڑان بھی جاری ہے

نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment