صفحات

Tuesday, 11 October 2016

اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں

اب تو اس طرح مِری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں
احتیاط، اہلِ محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پا بہ رسن جاتے ہیں
جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں
ساقیا! تُو نے تو مۓ خانے کا یہ حال کیا
بادہ کش محتسبِ شہر کے گُن گاتے ہیں
طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں
ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment