صفحات

Monday, 3 October 2016

تیرگی چاند کو انعام وفا دیتی ہے

تیرگی چاند کو انعامِ وفا دیتی ہے
رات بھر ڈوبتے سورج کو صدا دیتی ہے
میں نے چاہا تھا کہ باتوں میں چھپا لوں خود کو 
خامشی لفظ کی دیوار گِرا دیتی ہے
کوئی سایہ تو ملا دھوپ کے زندانی کو
میری وحشت تِری چاہت کو دعا دیتی ہے
اے ہوا! پھول کو چْپ چاپ پڑا رہنے دے 
دھیان کرتے ہوئے جوگی کو جگا دیتی ہے
کتنی صدیوں کے دریچے میں ہے بس ایک وجود 
زندگی سانس کو تلوار بنا دیتی ہے
قفسِ رنگ میں دن رات وہی پیاس کا درد 
آگہی بھی مجھے جینے کی سزا دیتی ہے

شمیم حنفی

No comments:

Post a Comment