صفحات

Saturday, 8 October 2016

لرز رہی ہے زمیں آسمان روتا ہے

اکتوبر 2005 کے زلزلے کے تناظر میں کہی گئی ایک غزل

لرز رہی ہے زمیں،۔ آسمان روتا ہے
چھتیں رکوع میں ہیں اور مکان روتا ہے
شکستگی سے چٹخنے لگے در و دیوار
یہ وہ گھڑی ہے کہ سارا جہان روتا ہے 
برہنہ سر کھڑی نوحہ کناں ہیں زہرائیں
یقین سر بگریباں،۔ گمان روتا ہے
لحد میں کون اتارے یہ بے کفن لاشے
ضعیف نوحہ بلب ہے،۔ جوان روتا ہے
بِلکتے بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر محسنؔ
بس ایک فرد نہیں،۔۔ خاندان روتا ہے

محسن احسان

No comments:

Post a Comment