اکتوبر 2005 کے زلزلے کے تناظر میں کہی گئی ایک غزل
لرز رہی ہے زمیں،۔ آسمان روتا ہے
چھتیں رکوع میں ہیں اور مکان روتا ہے
شکستگی سے چٹخنے لگے در و دیوار
یہ وہ گھڑی ہے کہ سارا جہان روتا ہے
برہنہ سر کھڑی نوحہ کناں ہیں زہرائیں
لحد میں کون اتارے یہ بے کفن لاشے
ضعیف نوحہ بلب ہے،۔ جوان روتا ہے
بِلکتے بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر محسنؔ
بس ایک فرد نہیں،۔۔ خاندان روتا ہے
محسن احسان
No comments:
Post a Comment