صفحات

Thursday, 6 October 2016

بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

بلا کے غم اٹھائے جا رہے ہیں 
جفا کے تیر کھائے جا رہے ہیں
فدا کرنے کو دینِ مصطفٰےؐ پر 
علی اکبر سجائے جا رہے ہیں
قدم دوشِ نبوتؐ پر تھے جن کے
وہ کانٹوں پر پھِرائے جا رہے ہیں
بٹھاتے تھے نبیؐ کاندھوں پہ جن کو
وہ نیزوں سے گِرائے جا رہے ہیں
ہوا تھا جونؔ قائم جن سے پردہ 
وہ بازاروں میں لائے جا رہے ہیں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment