روز ابھرتے ہیں، روز ڈوبتے ہیں
رات دن ہم یہ کس کو ڈھونڈتے ہیں
ہجر کیا، وصل کیا ہے، چاہت کیا
آپ کیوں بار بار پوچھتے ہیں؟
یہ محبت ہے، مصلحت ہے کہ وہم
دیکھ کر ایک خیال پرور کو
کیسے کیسے خیال سوجھتے ہیں
چاند سے دُودھیا سمندر ہے
ریت پہ ننگے پاؤں گھومتے ہیں
شاید ان کا خیال آ جائے
آنکھ ایک ثانیے کو موندتے ہیں
اس طرح کون کسی کو ڈھونڈتا ہے
جس طرح ہم کسی کو ڈھونڈتے ہیں
بے سبب دل میں درد اترتا ہے
بے سبب لوگ ہم سے روٹھتے ہیں
کس قدر خود فریب ہیں ہم بھی
کیسے کیسے بتوں کو پوجتے ہیں
حالِ دل کیا کہیں کسی سے اب
بات کیجے تو لفظ ٹوٹتے ہیں
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment