مِرے شوق جستجو کا کسے اعتبار ہوتا
سرِ راہ منزلوں تک نہ اگر غبار ہوتا
میں تجھے خدا سمجھ کر نہ گناہگار ہوتا
اگر ایک بے نیازی ہی تِرا شعار ہوتا
جو ستم زدوں کا یا رب کوئی غمگسار ہوتا
مِری زندگی میں شامل جو نہ تیرا پیار ہوتا
تو نشاطِ دو جہاں بھی مجھے ناگوار ہوتا
یہی مہر و ماہ و انجم کو گلہ ہے مجھ سے یا رب
کہ انہیں بھی چین ملتا، جو مجھے قرار ہوتا
نہ سکونِ دل کی چاہت میں تڑپ ادیبؔ اتنا
کسی اور کو تو ملتا جو کہیں قرار ہوتا
ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment