صفحات

Friday, 7 October 2016

خراب عشق سہی عالم شہود میں ہوں

خرابِ عشق سہی، عالمِ شہود میں ہوں
ہوں اشک اشک مگر اپنے ہی وجود میں ہوں
کسی نے نغموں میں تحلیل کر دیا ہے مجھے
نہ گنگناؤ کہ میں پردۂ سرود میں ہوں 
تُو اپنی ذات سے مجھ کو الگ نہ جان کہ میں
تِرے جمال کی نکہت کے تار و پود میں ہوں 
ہزار رنگ میں دیکھا ہے مجھ کو دنیا نے
ازل سے تا بہ ابد نشۂ ورود میں ہوں 
خود اپنی ذات کا عرفاں نہ ہو سکا مجھ کو
ابھی میں کشمکشِ دامِ ہست و بود میں ہوں 

رضا ہمدانی

No comments:

Post a Comment