صفحات

Sunday, 9 October 2016

ابھی ہم ہیں

ابھی ہم ہیں
تو سورج، چاند، تارے
سب ہماری دسترس میں ہیں
پہاڑوں پہ سجی برفاب چاندی
سبز جنگل کی گھنی خاموش تاریکی
بصارت کے لیے مہمیز بنتی ہے

روانی موجِ دریا کی نئی تحریک دیتی ہے
نیا ہر دن طلوع ہو کر جوازِ زندگی بنتا ہے
بس اک شام کا تارا
اجالا ختم ہونے پہ
زرا سستا کے دم لینے کو یونہی ٹمٹماتا ہے
نہ ہوں گے جب
تو سورج چاند تارے روشنی برسائیں گے پیہم
پہاڑوں پہ سجی برفاب چاندی جھلملائے گی
ہرے جنگل کی تاریکی تمہیں شاید ڈرائے گی
روانی دیکھ کے دریا کی، تم آنسو بہاؤ گی
نیا ہر دن یہ ممکن ہے کہ پہلے سے درخشاں ہو
مگر ہر شام کا تارا تمہارا دل جلائے گا
ہوا کا سُست رو جھونکا، تمہیں جب چھو کے گزرے گا
اڑیں گے خشک پتے
ایک سرگوشی سی ابھرے گی
تمہیں کچھ یاد آئے گا

انور زاہدی

No comments:

Post a Comment