صفحات

Tuesday, 4 October 2016

جو نہ مل سکے وہی بے وفا یہ بڑی عجیب سی بات ہے

گیت

جو نہ مل سکے وہی بے وفا، یہ بڑی عجیب سی بات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر، وہی آج تک میرے ساتھ ہے
جو نہ مل سکے وہی بے وفا ۔۔۔۔۔۔۔

جو کسی نظر سے عطا ہوئی، وہی روشنی ہے خیال میں
وہ نہ آ سکے رہوں منتظر، یہ خلش کہاں تھی وصال میں
میری جستجو کو خبر نہیں ، نہ وہ دن رہے، نہ وہ رات ہے

کرے پیار لب پہ گِلہ نہ ہو، یہ کسی کسی کا نصیب ہے
یہ کرم ہے اس کا جفا نہیں، وہ جدا بھی رہ کے قریب ہے
وہی آنکھ ہے میرے روبرو، اسی ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے

میرا نام تک جو نہ لے سکا، جو مجھے قرار نہ دے سکا
جِسے اختیار تو تھا مگر، مجھے اپنا پیار نہ دے سکا
وہی شخص میری تلاش ہ، وہی درد میری حیات ہے

جو چلا گیا مجھے چھوڑ کر، وہی آج تک میرے ساتھ ہے
جو نہ مل سکے وہی بے وفا، یہ بڑی عجیب سی بات ہے

خواجہ پرویز

No comments:

Post a Comment