صفحات

Monday, 10 October 2016

ہم پہنچ تو گئے ہیں در یار تک

ہم پہنچ تو گئے ہیں درِ یار تک
پھر بھی حاصل نہیں اس کا دیدار تک
شرم جرأت کی رہ جائے اب اے خدا
ہاتھ پہنچا مِرا دامنِ یار تک
ان کا خلوت کدہ اتنا ہی دور ہے
فاصلہ جس قدر گل سے ہے خار تک
عشق کو چاہیے حسن کو جیت لے
حسن کا ناز ہے عشق کی ہار تک
دلبری آپ کی ہم کو تسلیم ہے
لیکن اس میں نہیں بوئے ایثار تک
اک نہ اک حد معین ہے ہر چیز کی
ہے سکوں کی طلب دل کے آزار تک
وہ تمنا تمنا نہیں اے رتنؔ
ختم ہو جائے جو محض دیدار تک

پنڈت رتن پنڈوری

No comments:

Post a Comment