صفحات

Wednesday, 12 October 2016

ہر چند عرش اعلیٰ پہ ٹھیرا ہوا ہے تو

عارفانہ کلام حمدیہ کلام

ہر چند عرشِ اعلیٰ پہ ٹھیرا ہوا ہے تُو
دل سے مگر قریب نظر آ رہا ہے تو
تیرا نہ ہو سکا تو کسی کا نہ ہو سکا
تیرا جو ہو گیا ہے اسی کا ہوا ہے تو 
احسان تو یہ ہے کہ تجھے دیکھتے رہیں
یا کم سے کم یہ یاد رہے دیکھتا ہے تو
اب کیا کسی کا کوئی وسیلہ کریں تلاش
ہر فاصلے سے دیکھو تو بے فاصلہ ہے تو
تُو بے نیاز، بیٹا نہ شوہر، نہ باپ ہے
کیسے کہیں کہ احمد بے میم سا ہے تو
مالک یہ تُو کہاں، یہ لباسِ بشر کہاں
پروردگار پاک ہے بے سلسلہ ہے تو
تقسیم ہو گیا تو وہ معبود کیا رہا
تقسیم کے اصول سے ہی ماوراء ہے تو
سُوئے فلک بس آنکھ اٹھانے کی دیر ہے
ہر دردِ لا دوا کی مجرب دوا ہے تو
پہلے تولا الہ کی منزل سے تو گزر
بھائی رؤف خیرؔ کا گر ہم نوا ہے تو

رؤف خیر

No comments:

Post a Comment